پی ایس ایل 5 کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب کل کراچی میں سجے گی => آرنلڈ شوازینگر کی وزیراعظم کو آسٹریا ورلڈ سمٹ میں شرکت کی دعوت => بھارت مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لئے جھوٹے آپریشن کرسکتا ہے، وزیراعظم => حکومت کا مہنگائی کنٹرول نہ کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ => اٹارنی جنرل اور وزیرقانون کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر => ایران میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق => بلوچستان میں پیش آنے والے سانحات پر سرد مہری شرم کی بات ہے،ایوب کھوسہ => آٹا اورچینی بحران پر پیش کی جانے والی رپورٹ سے وزیراعظم مطمئن نہیں، فردوس عاشق => آسٹریلیا میں دورانِ پرواز مسافر بردار طیاروں میں ہولناک تصادم => سویا بین ڈسٹ کے حوالے سے محکمہ صحت سندھ کی ایڈوائزری جاری =>

اسلامک مضامین

The prophet Muhammad PBUH used to eagarly wait for month of ramadan
نبی پاک کو رمضان کا انتظار اور اشتیاق رمضان میں ہم الله پاک کا قرب ایسے حاصل کریں جیسے ہمارے نبی پاک نے سکھایا ہے
The daily routine of muslims in Month of Ramadan
رمضان میں معمولات روزہ الله اور بندے کے حقوق میں توازن پیدا کرتا ہے . روزے کے دن سب سے اچھا کام قرآن پاک کی تلاوت ہے
The respect of Holy month of Ramdan
رمضان مبارک کے آداب روزہ نفس کی تربیت کا سب سے اچھا طریقہ ہے

The Respect Of Holy Month Of Ramdan

رمضان مبارک کے آداب

رمضان المبارک کے آداب
روزہ تربیت نفس کا بہترین ذریعہ ہے
رمضان المبارک رحمتوں ،برکتوں ،سعادتوں اور نعمتوں کا مہینہ ہے ۔اس کی آمد پر ہر صاحب ایمان فرحت و مصرت محسوس کرتا ہے ۔اور روحانی امیدوں کے ساتھ اس کا استقبال کرتا ہے اس میں چھوٹے بڑے ،امیر غریب،عورت مرد ،مشرقی مغربی،شمالی جنوبی،کالے گورے کی تمیز نہیں ۔تمیز ہے تو بس ایمان و عقیدے کی جس نے ایمان سے بہرہ پایا ہے وہ رمضان کو خوش آمدیدکہتا ہے رمضان سے برکتےں حاصل کرتا ہے ،دینی فوائد حاصل کرتا ہے اور روحانی بلندیوں کی جانب گامزن ہونے کی کوشش کرتا ہے ۔
±قرآن کریم ارشاد فرماتا ہے :”رمضان کے مہینے میں قرآن اتارا گیا ہے ۔اس میں لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور روشن دلیلیں ہے راہ پانے کی اور حق کو باطل سے جدا کرنے کی ۔پس تم میں سے جو کوئی اسے پائے اس مہینے کے روزے ضرور رکھے اور جو کوئی بیمار ہو یا سفر میں ہو اس کو گنتی پوری کرنی چاہئے دوسرے دنوں سے ۔اللہ تعالیٰ تمہارے لئے سہولت چاہتا ہے دشواری نہیں چاہتا۔اور ےہ کہ تم گنتی پوری کرو اور اللہ کی بڑائی بیان کرو اس بات پر کہ تم کو ہدایت عطا کی کہ تم احسان مانو ۔“(البقرة185)
دوسری عظمت رمضان کی ےہ ہے کہ اس میں روزے فرض کئے گئے ۔
ترجمہ:”اے اصحاب ایمان !تم پر روزے فرض کئے گئے ،اسی طرح جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے ۔تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو ۔“(البقرة183)
روزے کا مقصد نیکی و پرہےز گاری بیان فرمایا گیا ہے اور اسی ماہ میں قرآن کا نزول ہوا تاکہ نیکی اور پرہیز گاری ،پاکیزگی اور نیکو کاری کے لئے پوری پوری رہنمائی میسر آئے۔قرآن مکمل ضابطہ اخلاق ہے اور دستور حیات اور رمضان کا سب سے بڑا عطیہ ےہ ہے کہ اس ماہ مقدس میں شاہراہ اسلام پر کتاب ہدایت اتاری گئی ۔جس کی روشنی قیامت تک روح انسانی کے لئے رہنمائی کرتی رہے گی ۔قرآن ہم بہترین زندگی گزارنے کا ڈھنگ سکھاتا ہے ،اچھائی اور برائی میں تمیز کرنے کا واضح معیار عطا فرماتاہے،سیدھا صاف راستہ دکھاتا ہے ۔عبد اور معبود کے تعلق کو واضح کرتا ہے اور دین و دنیا کی نعمتوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔اخلاق و اعمال کا مثالی نمونہ دیتا ہے ۔تقویٰ اور طہارے کے درمیان محبت اور مودت کی بنیادیں عطا کرتا ہے ۔انفرادی اور اجتماعی زندگی کے رہنما اصول کی تعلیم دیتا ہے ۔
روزی تربیت نفس کا بہترین ذریعہ ہے ۔پاکیزہ زندگی کے لئے نفس کی تربیت لازمی ہے ۔محض اچھے اصولوں کی تعلیم اس وقت تک غیر مو¿ثر ہے ۔جب تک افراد کی تربیت اس کے مطابق نہ ہو قول کچھ ہو اور عمل کچھ تو قول کا حسن بے معنی ہو جاتا ہے ۔عمل ہی انسان کا زیور ہے اور اسی سے انسان کی پستی اور بلندی ظاہر ہوتی ہے ۔قرآن عمل کی تعلیم دیتا ہے اور عمل ہی کی بنیاد پر انسان کو جانچتا ہے جس معاشرے کے افراد عمل سے عاری ہوں وہ معاشرہ قرآن کے معیارے سے ناقص اور ناکام ہے اس مہینے میں انسان خود اپنا تجزیہ کر سکتا ہے ۔اور خود اپنی تربیت کر سکتا ہے ۔اس مہینے میں وہ بہت سی جائز چیزوں کو بھی ایک مقررہ مدت میں حرام کر لیتا ہے ۔وہ کھا سکتا ہے مگر نہیں کھاتا وہ پی سکتا ہے مگر نہیں پیتا۔وہ اپنے نفس کی دوسری خواہشات بھی پوری کر سکتا ہے مگر وہ ان جائز خواہشات کی تکمیل بھی نہیں کرتا ،کیونکہ وہ اللہ کی رضا حاصل کرنا چاہتا ہے وہ اپنے ساتھیوں کی ہمدردی اور خدمت بھی کرتا ہے اور ان کے دکھ درد کو زیادہ بہتر طرےقے سے سمجھنے لگتا ہے ۔
اس مہینے میں اللہ کی رحمتوں کی بارش ہوتی ہے ۔اس کے بعد بھی اگر ہم پےار سے نہ رہیں تو یہ ہمارا قصور ہے ہم اللہ کی بندگی کے لئے پیدا کئے گئے ہےں اور اس کی بندگی سے رو گردانی کرےں گے تو دنیا کی ہر معمولی طاقت کے آگے ہمیں جھکنا پڑے گا ۔ہماری فلاح و نجات صرف پیروی قرآن میں ہے اور اتباع قرآن کا بہترین نمونہ سرور کائنات کی ذات اقدس و اعلیٰ ہے ۔صرف اور صرف اسوئہ حسنہ کی پیروی کے کے ہی ہم سرفراز اور سرخ رو ہو سکتے ہےں ۔سر بلندی اور سرفرازی ہماری منتظر ہے ۔قرآن کی بتائی ہوئی راہ پر ایک بار چل پڑےے بلندیاں آپ کے پےچھے پےچھے آئے گی اور اس کے آغاز کے لئے رمضان بہترین وقت ہے ۔
facebbo twitter rss